دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ طاقت، اثر و رسوخ اور وسائل کی اس کشمکش نے بین الاقوامی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان تصادم نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی کھیل کا حصہ ہے، جس میں ہر بڑی طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
اس جنگ کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، تجارت اور معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خلیج کا خطہ، جو دنیا کی توانائی کا ایک بڑا مرکز ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے کئی ممالک کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ تاہم، ایسے نازک حالات میں کچھ ممالک نے محض تماشائی بننے کے بجائے مثبت کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور پاکستان ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، خودمختاری اور امن کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے یہی اصول اپناتے ہوئے کسی فریق کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دانشمندانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی اس کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے، عالمی فورمز پر امن کی اپیل، اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک کسی نہ کسی بلاک کا حصہ بن رہے ہیں، پاکستان کا غیر جانبدار اور امن پسند رویہ اسے ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کی اہمیت اس صورتحال میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان نہ صرف ایک اسٹریٹیجک راہداری ہے بلکہ مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس بحران میں ایک پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو تنازعات کو کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔
پاکستان کی سفارتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ مشکل حالات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چاہے علاقائی تنازعات ہوں یا عالمی سطح کے مسائل، پاکستان نے ہمیشہ بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امن کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
معاشی میدان میں بھی پاکستان نے چیلنجز کے باوجود استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ عالمی جنگی ماحول کے باوجود پاکستان نے اپنی معیشت کو سنبھالنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مستقبل کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور نوجوان آبادی پاکستان کا ایک اور مضبوط پہلو ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھتے ہوئے دنیا میں پاکستان کی نوجوان نسل ایک قیمتی اثاثہ ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس پورے بحران میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو مقدم رکھا ہے۔ کسی دباؤ میں آئے بغیر امن کی بات کرنا اور عملی اقدامات کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو پاکستان کو ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں جہاں اکثر ممالک دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، پاکستان نے دانشمندی، توازن اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی راہ متعین کی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ جیسے پیچیدہ بحران میں پاکستان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف حالات کو سمجھتا ہے بلکہ ان میں بہتری لانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک امید کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف جنگ اور تصادم کا ماحول ہے، وہیں پاکستان امن، مکالمے اور ثالثی کا پیغام دے رہا ہے۔ اگر یہی پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھی جائے تو پاکستان نہ صرف اس مشکل وقت میں اپنا وقار بلند رکھے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر، بااعتماد اور امن پسند ملک کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط کرے گا۔
ملک میں حادثات کی ایک کے بعد دوسری خبر آتی ہے، چند لمحوں کے لیے فضا سوگوار ہوتی ہے، حکمران تعزیت کرتے ہیں، متعلقہ ادارے تحقیقات کا اعلان کرتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر جن گھروں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، جن...
مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف اس کی اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران پورے خطے کے امن، تجارت، معیشت اور مذہبی و انسانی مراکز کی سلامتی...
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افریقہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی معاشی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے والی ہے۔ دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی ترجیحات، نئی منڈیاں، وسیع قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے امکانات نے افریقہ کو عالمی معیشت کے اہم مراکز میں شامل کردیا...
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور عالمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، محض ایک ایرانی سفارت کار کا بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام کے بارے میں اٹھنے والے ایک بڑے سوال کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ آج دنیا کے مختلف...