ہمارے ہاں ترقی ایک ایسی چیز ہے جو زیادہ تر تقریروں، اشتہارات اور رنگ برنگے بینروں میں پائی جاتی ہے۔ اگر کبھی کسی شہری کو یقین نہ آئے کہ ملک ترقی کر رہا ہے تو اسے کسی سرکاری تقریب میں لے جائیں، جہاں دس فٹ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر بتایا جاتا ہے کہ قوم نے ترقی کی وہ منزل حاصل کرلی ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ البتہ اس تقریب تک پہنچنے کے لیے شہری کو جن ٹوٹی سڑکوں، کھلے مین ہولز اور گرد آلود راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، وہ الگ داستان سناتے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کا ترقی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ وہ جب بھی مائیک پکڑتے ہیں، ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ شہر پیرس بننے والا ہے، کبھی دعویٰ ہوتا ہے کہ اب ہر گلی میں خوشحالی ناچے گی۔ عوام بھی بیچارے ہر بار تالیاں بجاکر یقین کرلیتے ہیں کہ شاید اس بار واقعی کچھ بدل جائے گا۔ لیکن اگلی بارش آتی ہے اور سڑکیں ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے کسی نے دریاؤں کا نیا نظام متعارف کروادیا ہو۔
ہمارے شہروں کی سڑکیں بھی عجیب قسمت رکھتی ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے، افتتاح ہوتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، فیتہ کٹتا ہے، اخبارات میں بیانات چھپتے ہیں کہ “عوام کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کردی گئی۔” پھر چند دن بعد وہی سڑک کھودی جاتی ہے کیونکہ کسی محکمے کو یاد آتا ہے کہ پائپ ڈالنا رہ گیا تھا۔ اس کے بعد دوسرا محکمہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں، یہاں تو کیبل ڈالنی تھی۔ یوں ایک سڑک اپنی مختصر زندگی میں اتنی بار کھودی جاتی ہے کہ آخرکار وہ خود بھی سوچتی ہوگی کہ کاش میں سڑک کے بجائے کھیت ہی رہتی۔
ترقی کے دعوؤں کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر شہر میں دس نئی بسیں آجائیں تو اعلان ہوگا کہ “ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب آگیا۔” اگر دو پارک بن جائیں تو کہا جائے گا کہ “عوام کو عالمی معیار کی تفریح میسر آگئی۔” لیکن انہی پارکوں کے باہر کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی فٹ پاتھ خاموشی سے حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کررہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں ہر حکومت پچھلی حکومت کو سڑکوں کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ نئی حکومت آتے ہی پہلا بیان یہی آتا ہے کہ “خزانہ خالی ملا اور سڑکیں تباہ حال تھیں۔” عوام یہ بیان سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اچھا، قصور پھر پچھلوں کا ہی ہوگا۔ پانچ سال بعد یہی حکومت سابقہ حکومت بن جاتی ہے اور نئی آنے والی جماعت وہی جملہ دہراتی ہے۔ یوں ملک میں صرف حکومتیں بدلتی ہیں، گڑھے نہیں بدلتے۔
سڑکوں کی حالت دیکھ کر بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ شاید شہریوں کی ڈرائیونگ صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام چل رہا ہے۔ کہیں اچانک گڑھا آجاتا ہے، کہیں پانی کھڑا ہوتا ہے، کہیں آدھی سڑک غائب ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے والا ہر لمحہ اپنی قسمت آزماتا ہے۔ اگر وہ صحیح سلامت منزل تک پہنچ جائے تو اسے خود پر فخر ہونا چاہیے کہ اس نے صرف سفر نہیں کیا بلکہ ایک مہم سر کی ہے۔
ترقی کے منصوبوں میں ایک اور دلچسپ چیز ان کے نام ہوتے ہیں۔ جتنا بڑا نام، اتنا ہی چھوٹا کام۔ “عظیم الشان ترقیاتی پیکیج”، “انقلابی منصوبہ”، “تاریخی منصوبہ” اور “گیم چینجر” جیسے الفاظ سن کر لگتا ہے کہ اب ملک سیدھا یورپ بننے والا ہے۔ لیکن حقیقت میں عوام کو صرف نئی تختیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جن پر حکمرانوں کی تصاویر مسکرا رہی ہوتی ہیں۔ سڑک البتہ پہلے جیسی ہی رہتی ہے، بلکہ بعض اوقات مزید خراب ہوجاتی ہے۔
میڈیا بھی اس معاملے میں اپنا کردار خوب نبھاتا ہے۔ کسی نئی سڑک کا افتتاح ہو تو ڈرون کیمروں سے ایسی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں کہ لگتا ہے دبئی کا کوئی شاہراہی منصوبہ مکمل ہوگیا ہے۔ لیکن وہی میڈیا بارش کے بعد انہی سڑکوں پر تیرتی گاڑیاں کم ہی دکھاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ترقی کی کہانی میں حقیقت کا کردار زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔
عام آدمی کی زندگی مگر تقریروں سے نہیں چلتی۔ اسے روزانہ دفتر جانا ہوتا ہے، بچوں کو اسکول چھوڑنا ہوتا ہے، اسپتال پہنچنا ہوتا ہے۔ جب ایک ٹوٹی سڑک کی وجہ سے ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی رہتی ہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ جب شہری گھنٹوں جام میں پھنس کر تھک جاتا ہے تو اسے عالمی معیار کے خواب نہیں بلکہ ایک سیدھی سادہ قابلِ استعمال سڑک چاہیے ہوتی ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے مسائل کو معمول سمجھ لیا ہے۔ اگر کسی علاقے کی سڑک چند ماہ خراب نہ ہو تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی گڑھوں سے بچتے بچاتے جینا سیکھ لیا ہے۔ بارش ہو تو لوگ پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کون سی سڑک دریا بنے گی اور کون سا پل تالاب کا منظر پیش کرے گا۔
اصل ترقی شاید وہ ہوتی ہے جسے اشتہارات کی ضرورت نہ پڑے۔ جہاں شہری سکون سے سفر کرسکے، جہاں سڑک بننے کے بعد بار بار نہ کھودی جائے، جہاں منصوبے صرف تصویروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت کے لیے بنائے جائیں۔ مگر ہمارے ہاں ترقی اکثر کیمروں کے سامنے زیادہ اور زمین پر کم نظر آتی ہے۔
اس ملک کا سب سے مضبوط نظام شاید “اعلان” ہے۔ اعلان ہوجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ سڑک ٹوٹی ہوئی ہو، اسپتال میں دوا نہ ہو، اسکول میں استاد نہ ہو، لیکن اگر پریس کانفرنس میں بتایا جائے کہ “انقلابی اقدامات” کیے جارہے ہیں تو سب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ عوام بھی اب اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ تقریر سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اب کچھ دن سوشل میڈیا پر ترقی کا شور رہے گا، پھر زندگی دوبارہ انہی گڑھوں میں ہچکولے کھاتی نظر آئے گی۔
ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر قوم آج بھی ایک اچھی سڑک، صاف پانی اور بنیادی سہولتوں کی منتظر ہے۔ شاید جس دن حکمرانوں کی گاڑیاں بھی انہی ٹوٹی سڑکوں سے گزریں گی جن سے عام آدمی روز گزرتا ہے، اس دن ترقی کے دعووں کے ساتھ سڑکیں بھی واقعی ٹھیک ہوجائیں۔
اطلاع ہے کہ جنوری 2027 میں کراچی کی 20 اہم سڑکیں کھود دی جائیں گی۔ خبر سنتے ہی کراچی والوں کے دلوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جانی چاہیے، آخر نئے سال کا آغاز نئے منصوبوں، نئی کھدائیوں اور نئے گڑھوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں ترقی کا سفر جاری ہے،...
ہمارے ہاں کھیلوں کی کمی نہیں۔ بچپن میں گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، آنکھ مچولی اور لٹو کھیلا جاتا تھا، جوانی میں سیاست کا کھیل شروع ہوجاتا ہے، اور عمر بڑھ جائے تو سب سے مقبول کھیل صوبہ صوبہ بن جاتا ہے۔ اس کھیل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ گیند...
دنیا نے ایٹم بم کی ہولناک تباہی دیکھی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس طاقت کی یاد دلاتے ہیں جو چند لمحوں میں ایک شہر کو ملبے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ لیکن اب انسان ایک ایسی نئی طاقت تخلیق کر رہا ہے جو بم کی شکل میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور...
ریلیف کا لفظ سنتے ہی مہنگائی کے مارے عوام کے چہروں پر امید کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حکومت کسی چیز میں ریلیف دینے کا اعلان کرے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ شاید کچھ دن کے لیے ہی سہی، گھر کا بجٹ کچھ آسان ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے ہاں ریلیف کی...